Monday, 2 January 2017

Ab tu shayad he mjhse muhabbat kare koe


سلگتی شاخ سے خوشبو کو مہکانا نہیں اچھا


سلگتی شاخ سے خوشبو کو مہکانا نہیں اچھا
اگر خود بھی تڑپتے ہو تو تڑپانا نہیں اچھا

یہاں پستہ قدوں کی بھیڑ ہے لیکن ذرا ٹھہرو
قدو قامت کا نظروں میں یہ پیمانہ نہیں اچھا

خوشی کا ایک لمحہ بھی کئی صدیوں پہ بھاری ہے
مگر تیرا یہاں سے روٹھ کر جانا نہیں اچھا

سروں پہ دھوپ رہتی ہےسدا سایہ ہی دیتے ہیں
یہاں اشجار کی راہوں میں ویرانہ نہیں اچھا

فسردہ شہر میں ہر آدمی خوفِ وبا میں ہے
کسی کی بے بسی پہ اتنا مسکانا نہیں اچھا

یقیں کی حد میں رہ کر ہی خدا کے آدمی ہیں ہم
زمیں کے عشق میں جنت کو ٹھکرانا نہیں اچھا

نگاہوں میں اداسی ہے لبوں پہ گہری خاموشی 
سکوتِ ذات کو اتنا بھی تڑپانا نہیں اچھا

چلے جانے پہ اس کے رو رہی ہوں آج لاحاصل 
غموں کو دل کی وادی میں یوں ٹھہرانا نہیں اچھا

اگر ترکِ تعلق میں یہ دنیا چھوڑ دی وشمہ
میں اتنا جانتی ہوں اب پلٹ آنا نہیں اچھا

Sunday, 1 January 2017

دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا

Perveen Shakir

دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا
لاکھ پردوں میں چھپا کوئی سنورتا ہی رہا

روشنی کم نہ ہوئی وقت کے طوفانوں میں
دل کے دریا میں کوئی چاند اترتا ہی رہا

راستے بھر کوئی آہٹ تھی کہ آتی ہی رہی
کوئی سایہ مرے بازو سے گزرتا ہی رہا

مٹ گیا پر تری بانہوں نے سمیٹا نہ مجھے
شہر در شہر میں گلیوں میں بکھرتا ہی رہا

لمحہ لمحہ رہے آنکھوں میں اندھیرے لیکن
کوئی سورج مرے سینے میں ابھرتا ہی رہا

میں اپنی دوستی کو شہر میں رسواء نہیں کرتی

Perveen Shakir
میں اپنی دوستی کو شہر میں رسواء نہیں کرتی 
محبت میں بھی کرتی ہوں مگر چرچا نہیں کرتی

جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دِل سے خادم ہوں
جو اٹھ کے جانا چاھے میں اسے روکا نہیں کرتی

جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پِھر بھول جاتی بوں
پِھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نبیں کرتی

تیرا اصرار سر آنكھوں پہ کے تم کو بھول جاؤں میں
میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی

Perveen Shakir

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا خیال بھی

Perveen Shakir
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا خیال بھی 
دِل کو خوشی كے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی 

سب سے نظر بچہ كے وہ مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا 
اک دافع تو رک گئی گردش ماہ سال بھی 

دِل تو چمک سکے گا کیا پِھر بھی تراش كے دیکھ لیں 
شیشہ گراں شہر كے ہاتھ کا یہ کمال بھی 

اس کو نا پا سکے تھے جب دِل کا عجیب حال تھا 
اب جو پلٹ كے دیکھیے بات ہی کچھ مُحال تھی 

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پِھر 
ہاتھ دعا سے یوں گرے بھول گیا سوال بھی 

اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں 
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی 

شام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے ایک پتہ 
موج ہوا کیوں یار ، کر کچھ تو میرا خیال بھی

Kuch Toh Hawa Bhi Sard Thi, Kuch Tha Tera Khayal Bhi
Dil Ko Khushi Ke Sath Sath Hota Raha Malal Bhi

Baat Woh Aadhi Raat Ki, Raat Woh Pore Chand Ki
Chand Bhi Woh Aen Cheet Ka, Us Per Tera Jamal Bhi

Sab Se Nazar Bacha Ke Woh Mujh Ko Kuch Aesy Dekhta
Ek Dafa Toh Ruk Gai Gardish Mah-Wa-Sal Bhi

Dil Tu Chamak Sake Ga Kya, Pher Bhi Tursh Ke Dekh Le
Shisha Giran-E-Shehar Ke Hath Ka Yeh Kamal Bhi

Us Ko Na Pa Sake They Jab Dil Ka Ajeb Halt Ha
Ab Jo Palat Ke Dekhiye, Baat Thi Kuch Muhal Bhi

Perveen Shakir

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

Perveen Shakir

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب
ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے

تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے
ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی
سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت
اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے

تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے
پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا Perveen Shakir

Perveen Shakir

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا

فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس
تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں
کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا

وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے
اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا

Perveen Shakir Ghazal

اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا

Perveen Shakir

اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
مجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھا

تیرے جانے پہ اب کے کچھ نہ کہا
دل میں ڈر تھا ملال تھا کیا تھا

برق نے مجھ کو کر دیا روشن
تیرا عکس جلال تھا کیا تھا

ہم تک آیا تو بہر لطف و کرم
تیرا وقت زوال تھا کیا تھا

جس نے تہہ سے مجھے اچھال دیا
ڈوبنے کا خیال تھا کیا تھا

جس پہ دل سارے عہد بھول گیا
بھولنے کا سوال تھا کیا تھا

تتلیاں تھے ہم اور قضا کے پاس
سرخ پھولوں کا جال تھا کیا تھ

Huner tha kama tha kia tha
mujh main tera jamal tha kia
Perveen shair

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی 
جیتوں تو تجھے پاؤں، ہاروں تو پیا تیری

Is shart peh khelon gi pia pyar ki bazi
jeton tu tujhy pahon, haron tu pia teri

Perveen shakir

Perveen Shakir

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا


اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا
دعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا

تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں
محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا

ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی
ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا

اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو
ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گل بار ہو جانا

ابھی کچھ ان کہے الفاظ بھی ہیں کنج مژگاں میں
اگر تم اس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا

ہوا تو ہم سفر ٹھہری سمجھ میں کس طرح آئے
ہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا

ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھا
ابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا

ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

poet Ada Jafri