Wednesday, 4 January 2017

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے


ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب
ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے

تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے
ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی
سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت
اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے

تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے
پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

Dasne lage khuwab magar kis se boliye
Main janti thi pal rahi hn sanpoliye

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا


اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو
حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

ہم نے جو بھول کے بھی شہ کا قصیدہ نہ لکھا
شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا

اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی
پڑھ کے ناخوش ہیں مرا صاحب ثروت لکھنا

دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے
سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا

کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہ کے مصاحب جالبؔ
رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا